مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: جس روز رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں مفاہمت نامے کے بارے میں امریکہ کی بے بسی کی اصطلاح استعمال کی تھی، اس وقت شاید بہت کم لوگوں نے تصور کیا ہوگا کہ یہ وضاحت اتنی جلدی اور اتنی درست صورت میں اعداد و شمار میں ظاہر ہو جائے گی۔ لیکن چند ہفتوں کا گزرنا ہی کافی تھا کہ معلوم ہو گیا کہ رہبر معظم کا یہ بیان اس صورتحال کی درست عکاسی تھا جو انہی دنوں امریکی منڈیوں کے اندر تشکیل پا رہی تھی۔
امریکہ نے اس جنگ میں جو بھی قدم اٹھایا، اس نے اس کی معیشت کی کسی نہ کسی اہم منڈی میں اپنا نشان چھوڑا ہے؛ توانائی کی قیمتوں سے لے کر خوراک اور بنیادی اشیا تک۔ اور اب معاملہ اس مقام تک پہنچ گیا ہے جو ہر حکومت کے لیے معیشت کے حساس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے: امریکی قرض اور مالیاتی بانڈز کی منڈی۔
تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ
حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی سے اضافہ ہوا۔ فوجی کشیدگی دوبارہ بھڑکنے کے ساتھ برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی۔ امریکہ کے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل کی قیمت میں بھی 5.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ دو ماہ کے دوران پہلی مرتبہ 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔
عام لوگوں کے لیے اس صورت حال کا مطلب ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: مہنگائی۔ لیکن ماہرین اقتصادیات اور سرمایہ کاروں کے لیے مہنگا تیل اس سے کہیں بڑی تشویش، یعنی مہنگائی کے دباؤ کے دوبارہ لوٹ آنے کی وارننگ ہے۔
اس وقت امریکی حکومت پر 40 کھرب ڈالر سے زیادہ کا قرض ہے۔ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت امریکی بانڈز جاری کرنے پر بھی انحصار کرتی ہے۔ ان بانڈز کا خریدار جب محسوس کرتا ہے کہ مہنگائی یا معاشی خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے تو وہ زیادہ منافع کا مطالبہ کرتا ہے۔ نتیجہ واضح ہے کہ امریکہ کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
قرض اور شرح سود کا دباؤ
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع اس وقت 4.7 سے 4.8 فیصد کی حدود میں ہے، جبکہ 30 سالہ بانڈز 5.2 فیصد سے اوپر کی سطح پر خرید و فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ ایسی سطح ہے جو 2007 کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔ ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ شرح سود جتنی زیادہ دیر تک بلند رہے گی، امریکی حکومت کے وسائل کا اتنا ہی بڑا حصہ قرض کی لاگت ادا کرنے میں صرف ہوگا۔
دنیا کے سرمایہ کار اب پہلے کی طرح امریکہ پر اعتماد نہیں کریں گے۔ لہٰذا اگر انہیں اپنا پیسہ 10 یا 30 سال کے لیے امریکی حکومت کے پاس رکھنا ہے تو وہ کہیں زیادہ منافع کا مطالبہ کریں گے، جو بالآخر امریکی حکومت کی استطاعت سے باہر ہوسکتا ہے۔ معیشت کا ایک فطری اصول ہے کہ جب کسی مقروض پر اعتماد کم ہو جائے تو اسے دوبارہ قرض حاصل کرنے کے لیے زیادہ شرح سود ادا کرنا پڑتی ہے۔
مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع صرف حکومت کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ امریکہ میں رہن کے قرضوں، کمپنیوں کے لیے قرض اور بہت سی مالی سرگرمیوں کی قیمت طے کرنے کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ جب پیسہ مہنگا ہو جاتا ہے تو گھر خریدنا مشکل ہو جاتا ہے، کمپنیوں کی سرمایہ کاری محتاط ہو جاتی ہے اور حصص کی قدر مزید غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔
امریکی مالیاتی منڈیوں اور وال اسٹریٹ نے بھی اس دباؤ کو محسوس کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 2.2 فیصد جبکہ نیسڈیک تقریباً 3.8 فیصد نیچے آ گیا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری اور امریکی منڈی
امریکہ کے لیے زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ جاپان، جو امریکی بانڈز کا سب سے بڑا غیر ملکی خریدار ہے اور کئی برس سے مسلسل یہ بانڈز خرید کر امریکہ کو مالی سہارا دیتا رہا ہے، اب پہلی مرتبہ 1996 کے بعد اپنی 10 سالہ مدت کے بانڈز کی شرح منافع کو 3 فیصد تک پہنچتے دیکھ رہا ہے۔ اس کے طویل مدتی بانڈز کی شرح منافع بھی 30 سالہ ریکارڈ کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ جب جاپانی کرنسی کمزور ہے اور جاپان کی مقامی منڈی بھی پرکشش منافع فراہم کر رہی ہے تو جاپانی سرمایہ پہلے کی طرح امریکہ کا رخ کیوں کرے گا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی مالیاتی نظام کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ متاثر ہونے لگتا ہے؛ اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کو اس سرمایہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ان تمام عوامل کو یکجا کیا جائے تو ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو وائٹ ہاؤس کے سرکاری نعروں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
امریکہ کو جنگ جاری رکھنے کے لیے رقم درکار ہے۔ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے اسے مزید بانڈز فروخت کرنا ہوں گے۔ بانڈز فروخت کرنے کے لیے اسے سرمایہ کاروں کو مطمئن کرنا ہوگا۔ جب سرمایہ کار زیادہ شرح منافع کا مطالبہ کرے گا تو حکومت کی لاگت بڑھ جائے گی۔
اگر تیل کی قیمتیں بھی بلند رہیں اور مہنگائی دوبارہ زور پکڑ لے تو شرح سود میں کمی کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن کے فیصلوں کی لاگت بڑھ رہی ہے اور اس کی آزادیِ عمل محدود ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ جو معاشی طاقت کا دعویٰ کرتا ہے، عملی طور پر بھاری قرض، غیر مستحکم بانڈ مارکیٹ اور لرزتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ سے نبرد آزما ہے۔
حاصل سخن
وہ جنگ جس کا مقصد طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا، ان دنوں امریکہ کی بے بسی کی علامت بن چکی ہے۔ اگر کل تک جنگ کی بھاری قیمت پٹرول، خوراک اور بنیادی اشیا میں نظر آ رہی تھی تو اب اس کی قیمت مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں ہو گئی ہے۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ نئی کشیدگی پھیلانے کے لیے امریکہ کی معاشی گنجائش مغربی ذرائع ابلاغ کے تصور سے کہیں زیادہ محدود ہوچکی ہے۔
آپ کا تبصرہ